ویریفائڈ پیج پر بھارتی ایڈمن سامنے آنے کے بعد حامد میر کا پیج سے لا تعلقی کا اعلان

Hamid Mir Deletes his verified page
Hamid Mir Deletes his verified page

حال ہی میں یہ بات سامنے آئی کہ حامد میر کے آفیشل ویریفائڈ فیس بک پیج پر ایک ایڈمن انڈیا سے ہے

یہ بات سامنے آنے کے بعد حامد میر نے اپنا ویری فائڈ فیس بک پیج ان پبلش کردیا 

فیس بک کی ایک سال قبل لائی گئی نئی پیج سیٹنگ کے بعد یہ پتہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ کسی پیج پر کتنے ایڈمن ہیں اور سب کس کس ملک سے ہیں

اسی طرح حامد میر کے ویریفائڈ فیس بک پیج کی ٹرانسپیرینسی آپشن میں جا کر یہ سامنے آیا کہ اس پیج کے ٹوٹل ایڈمنز میں سے ایک ایڈمن بھارت سے ہے

Hamir Mir Page Admins from India
Hamir Mir Page Admins from India

 یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد پہلے تواس انڈین ایڈمن کو فیس بک پیج کی ایڈمن شپ سے ہٹایا گیا اور اسکے بعد یہ پیج ہی ان پبلش ہو گیا۔ اب اگر آپ فیس بک پر جا کر حامد میر کا وہ آفیشل ویریفائڈ پیج سرچ کرنا چاہیں گے تو آپ کو نہیں ملے گا کیوں کہ وہ ان پبلش ہو چکا ہے۔بات صرف یہی تک محدود نہیں رہی بلکہ حامد میر نے ایک ٹویٹر پر کہا کہ انکو تو معلوم ہی نہیں انکا کوئی فیس بک پیج بھی ہے۔ دیکھیں حامد میر نے کیا کہا:

کیاواقعی حامد میر ٹھیک کہہ رہے ہیں؟ آیئے جائزہ لیتے ہیں تکنیکی پہلو سے

حامد میر اس ٹویٹ میں کہتے ہیں کہ انکو معلوم ہی نہیں تھا اور ان کے نام کا فیس بک پیج بن چکا تھا اور بات صرف پیج بننے تک ہی محدود نہ تھی بلکہ وہ پیج بلیو ٹِک کے ساتھ ویریفائڈ بھی تھا۔ اگر آپ ایک پرانے فیس بک یوزر ہیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ فیس بک پیج کے نام کے ساتھ ایک نیلے رنگ کے ٹِک کا ظاہر ہونا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ یہ اس بندے یا اس کمپنی کا آفیشل پیج ہے۔ فیس بک پیج ویری فائی کروانا کوئی آسان مرحلہ نہیں ہوتا کیوں کہ اس کے لئے آپ کو اپنے تمام اصلی دستاویزات فیس بک کو دکھانا ہوتے ہیں اور اسکے بعد فیس بک مکمل اپنی جانچ پڑتال کرکےپھر ہی پیج ویری فائی کرتا ہے۔ تو اب اگر حامد میر کا پیج ویریفائڈ تھا تو اس کے دو ہی مطلب ہیں

ایک مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ حامد میر کو پتہ ہی نہیں چلا کہ ان کے ذاتی ڈاکیومنٹس کسی نے چرا لئے اور ان کو استعمال کرکے فیس بک پیج ویریفائی کروا لیا 

اور یا پھر حامد میر سیدھا سیدھا جھوٹ بول رہے ہیں کہ ان کو فیس بک پیج ویریفائڈ ہونے کا پتہ ہی نہیں چلا۔ 

تو یہ تھی ساری بار تکنیکی اعتبار سے۔۔۔آپ اسکے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کرنا مت بھولیں۔ شکریہ

English version:

Recently it came to light that there is an admin from India on Hamid Mir’s official verified Facebook page. After this came to light, Hamid Mir published his verified Facebook page. With Facebook’s new page settings introduced a year ago, it’s not hard to figure out how many admins are on a page and what country they’re all from.

Similarly, going to the transparency option of Hamid Mir’s verified Facebook page, it came out that one of the total admins of this page is from India.

After this matter came to light, first the Indian admin was removed from the admin of the Facebook page and after that this page was published. Now, if you want to go to Facebook and search for Hamid Mir’s official verified page, you will not find it because it has been unpublished. They don’t even know they have a Facebook page. See what Hamid Mir said:

 

Is Hamid Mir really right? Let’s take a look at the technical aspects

Hamid Mir says in this tweet that he did not know and he had a Facebook page and it was not just a matter of creating a page but also that page was verified with Blue Tick.

If you are an old Facebook user, you will know that the appearance of a blue tick with the name of the Facebook page indicates that it is the official page of this person or this company. Verifying a Facebook page is not an easy step because you have to show all your original documents to Facebook and then Facebook verifies itself and then verifies the page.

So now if Hamid Mir’s page was verified, it has only two meanings:

One: It could mean that Hamid Mir did not find out that someone had stolen his personal documents and used them to verify his Facebook page.

Or Hamid Mir is lying that he did not know that his Facebook page was verified.

 

Check this too: Public Reaction on Hamir Mir being expelled from Geo News

Facebook Comments

comments

Comments are closed.