پیشہ ور بھکاری۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

ہمارے معاشرے میں جہاں کُچھ لوگ حالات سے مجبور ہو کر مدد مانگتے ہیں وہیں کُچھ لوگ یہ کام عادت سے مجبور ہو کر اور بطور پیشہ کرتے ہیں۔ حقیقی مجبور لوگ ضرورت پوری ہونے پر دوبارہ نظر نہیں آتے لیکن پیشہ ور بھکاری ہر روز ایک ہی جگہ پر پائے جاتے ہیں۔فرق کرنا سیکھیں اور ایسے عناصر کی حوصلا شکنی کریں۔

دوران سفر کسی بھی چوک میں ٹریفک کا اشارہ سرخ ہوتے ہی لوگوں کا ایک ہجوم گاڑیوں کی طرف لپکتا ہے۔ کوئی گاڑیوں کے شیشے صاف کرنا شروع کرتا ہے اور کوئی کُچھ بیچنے کی کوشیش، لیکن زیادہ تر لوگ بھیک مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس ہجوم میں زیادہ تر بچے یا خواتین ہوتی ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر کوئی ایک مخصوص لین تک ہی محدود رہتا ہے۔

اسی طرح ہسپتالوں کے اندر اور باہر بھی لوگوں کا ایک ہجوم نظر آتا ہے جو لوگوں سے مدد مانگتے نظر آتا ہے۔ کسی کو گھر واپسی کے لیے کرایہ چاہیے ہوتا ہے تو کسی کے پاس دوائی لینے کے لیے پیسے کم پڑ جاتے ہیں۔

یہ لوگ ایسی ایسی تاویلیں گھڑتے ہیں کہ کوئی بھی سننے والا ششد رہ جائے۔ خیرات ملنے کی صورت میں جہاں یہ لوگ دعاؤں کی بھرمار کر دیتے ہیں وہیں کُچھ لوگ خیرات نہ دینے پر بُرا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔

ایسے لوگ دراصل پیشہ ور بھکاری ہوتے ہیں، بھیک مانگنا ہی ان کا روزگار ہوتا ہے۔ کم محنت اور زیادہ کمائی کی وجہ سے یہ محنت مزدوری کرنے کی بجائے بھیک مانگنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

پیشہ ور بھکاری بھی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کا تعلق بھکاری مافیا سے ہوتا ہے اور دوسرے وہ جو ایسے کسی گینگ کے ساتھ منسلک ہونے کی بجائے انفرادی یا اجتماعی طور پر یہ کام کرتے ہیں۔

بھکاری مافیا سے منسلک افراد ایک گینگ کی صورت میں کام کرتے ہیں۔ اغواء شدہ اور گود لیے گئے بچوں کو اپاہج بنایا جاتا ہے اور پھر اُن سے بھیک منگوائی جاتی ہے۔ کُچھ بچوں کو بھیک لینے کے لیے کتابیں بھی دی جاتی ہیں، اور انہیں سکھایا جاتا ہے کہ کتابیں بیچنے کے نام پر کس طرح غربت اور بھوک کا رونا رویا جائے کہ لوگ انکی مدد کریں۔ یہ گینگ بچوں کے ساتھ خواتین سے بھی بھیک منگواتا ہے۔ یہ مافیا نہ صرف ان سب بھیک مانگنے والوں کو مقررہ جگہ پر چھوڑنے اور واپس لے جانے کا انتظام کرتا ہے بلکہ ان بچوں اور خواتین کی نگرانی بھی کی جاتی ہے تا کہ کوئی ان کے مانگنے کے کام میں خلل نہ ڈالے۔

پیشہ ور بھکاریوں کی دوسری قسم کسی گینگ یا مافیا سے تو منسلک نہیں ہوتی لیکن کام اسی طرح سے کرتے ہیں۔ بچوں اور خواتین سے چیزیں بیچنے کے نام پر بھیک منگوانا، معذوری اور غربت کے نام پر بھیک مانگنا وغیرہ۔ یہ لوگ یا تو انفرادی طور پر خود بھیک مانگتے ہیں یا اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کو بھی بھیک مانگنے کے لیے بھیج دیتے ہیں۔

کسی بھی بارونق جگہ چلے جائیں، چاہے وہ کوئی بازار ہو یا مارکیٹ، ہسپتال ہو یا کوئی سرکاری ادارہ، بس سٹاپ ہو یا بس اڈے، کالج ہو یا یونیورسٹی، فوڈ سٹریٹ ہو یا کوئی ریسٹورنٹ آپ کو جگہ جگہ یہ پیشہ ور بھکاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اگر ان بھکاریوں کی روزآنہ کی بھیک کا حساب کیا جائے تو یہ ہزاروں میں بنتی ہے۔ کُچھ عرصہ قبل ایک بھکاری سے ملاقات ہوئی جو رکشہ خریدنے لاہور آیا تھا۔ رکشہ خریدنے کی وجہ پوچھنے پر اُس نے بتایا کہ بھیک مانگنے کے اڈے پر آنے جانے کے لیے اُسے روزآنہ 1200 روپیہ ایک رکشے والے کو دینا پڑتا ہے۔ رکشہ خرید کر وہ نہ صرف کرائے کے پیسے بچائے گا بلکہ رکشہ رینٹ پر بھی دے دے گا۔ ماہانہ آمدنی کا پوچھنے پر اُس نے بتایا کہ ہر مہینے وہ لاکھوں روپیہ بھیک اکٹھی کرتا ہے۔

اس واقعہ کے کُچھ عرصہ بعد ایک ہسپتال میں بھی ایک بھکاری سے ملاقات ہوئی، اُس نے بتایا کہ وہ روزآنہ چار سے پانچ ہزار روپیہ اکٹھا کرتا ہے، لیکن اُسے وارڈ کی آپا وغیرہ کو بھی حصہ دینا پڑتا ہے۔

ان پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف آئے روز برائے نام کریک ڈاؤن ہوتے رہتے ہیں، لیکن اس مسئلے کا حل صرف اس طرح کی کارروائیوں سے نہیں ہو سکتا، کیوں کہ یہ لوگ پہلے ہی حصہ دے دیتے ہیں اور اگر کاروائی ہو بھی تو چائے پانی دے کر دوبارہ وہی کام شروع کر دیتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں بحثیت معاشرہ ایسے عناصر کی حوصلا شکنی کرنی چاہیے۔ جہاں اداروں کی کارروائی ضروری ہے وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ایسے پیشہ ور بھکاریوں کو بھیک دینے سے اجتناب کریں۔ اگر ہم ایسے افراد کو بھیک دینا بند کر دیں گے تو یہ خود ہی یہ کام چھوڑ دیں گے۔

Facebook Comments

comments

Comments are closed.