آزاد جموں و کشمیر الیکشنز۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

آزاد جموں و کشمیر الیکشنز

آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات میں آزاد کشمیر کی عوام نے اپنا فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کے حق میں سنایا ہے۔ پی ٹی آئی نے 45 میں سے 26 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت حاصل کی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن نے انتخابات میں بدترین شکست کے بعد نہ صرف انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا بلکہ دھاندلی کا ڈھنڈورا بھی پیٹنا شروع کر دیا ہے۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ کچھ صحافی حضرات عوامی رحجان سے واقف ہوتے ہوئے بھی انتخابی نتائج کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے رہے۔ یہ جاننا بُہت مُشکِل نہیں کہ دھاندلی کے اِن الزامات میں کتنی حقیقت ہے۔

آزاد کشمیر میں انتخابات سے قبل مختلف قسم کے سروے ہوئے۔ میڈیا چینلز اور دوسرے اداروں کی جانب سے کچھ گراؤنڈ سروے کروائے گئے جبکہ کچھ سروے ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز پر کروائے گئے۔ حیران کن طور پر سب کا نتیجہ تقریباً ایک جیسا تھا، سب نتائج نے ایک ہی طرف اشارہ کیا کہ اس بار لوگوں کا رحجان تحریک انصاف کی طرف ہے۔

کسی بھی انتخاب میں انتخابی نتائج کا دارومدار انتخابی مہم پر ہوتا ہے۔ ہر انتخابی مہم دو حصوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اول کارکردگی، دوئم بیانیہ۔ موثر انتخابی مہم کے لیے کارکردگی اور بیانیہ دونوں کا موثر ہونا ضروری ہے کیوں کہ یہ براہ راست نتائج پر اثر انداز ہوتی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن نے انتخابی مہم کے دوران اپنی ساری توانائی اینٹی عمران اور فوج مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر صرف کی، جو کہ زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوئی۔ بدقسمتی سے ن لیگ نے نہ اپنی گزشتہ حکومت کی کارکردگی کا ذکر کیا اور نہ ہی مستقبل کے متعلق کوئی پالیسی دی، اور کرتے بھی کیسے، کارکردگی کے متعلق بتانے کے لیے ان کے پاس کچھ تھا ہی نہیں۔ گزشتہ 5 سالوں میں ن لیگ نے کشمیر میں کوئی بھی ایسا قابل تحسین کام نہیں کروایا جس سے لوگوں کے مسائل کم ہوئے ہوں۔

اس امر کے باوجود کہ لوگوں کی زیادہ دلچسپی اس چیز میں ہوتی ہے کہ کسی بھی جماعت کی گزشتہ کارکردگی کیسی تھی اور مستقبل کے منصوبے کیا ہیں، نواز لیگ نے اس متعلق بات کرنے کی بجائے صرف عمران خان یا فوج پر بات کی۔ عمران خان کرپٹ ہے، سیلیکٹڈ اور مسلط شدہ ہے، کشمیر فروش ہے، کشمیر کو صوبہ بنانا چاہتا ہے، اس کے بچے یہودیوں میں پرورش پا رہے ہیں، فوج یا اسٹیبلشمنٹ ووٹ چور اور ظالم ہیں، نواز شریف کو جان بوجھ کر نا اہل کروایا گیا، اور ایسی ہی بُہت ساری دوسری باتیں کی گئیں۔ لیکن نواز لیگ یہ بتانے میں ناکام رہی کہ گزشتہ 5 سالوں میں اُنہوں نے کونسے کام کروائے ہیں اور مستقبل میں کیا کام کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

آزاد کشمیر کی عوام نے ن لیگ کی اینٹی عمران اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ اپروچ کو نہ صرف مسترد کردیا بلکہ ن لیگ کی جھوٹے الزامات کی سیاست کو بھی دفن کر دیا ہے۔ ن لیگ کے لیے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ تمام ریاستی وسائل کو استعمال کرنے کے باوجود وہ خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکی۔

اسکے برعکس پیپلز پارٹی نے نہ صرف اپنے گزشتہ دور کی کارکردگی کی تشہیر کی بلکہ عمران خان اور نواز لیگ مخالف بیانیے پر بھی کھل کر بات کی، سندھ میں بدترین کارکردگی کی وجہ سے پی پی کی انتخابی مہم کا مرکز بھٹو اور بینظیر کی شہادت، عمران خان کی کٹھ پُتلی حکومت اور نواز شریف کی بھارت سے دوستیاں تھی۔ پی پی نے اپنی گزشتہ حکومت میں یہاں کچھ کام کروائے تھے اس لیے انہیں کچھ ن لیگ پر برتری حاصل رہی۔ لیکن یہ بھی کشمیر کے مستقبل کے بارے میں کوئی پالیسی دینے میں ناکام رہے۔ ن لیگ کی طرح پی پی کے رہنما بھی مقبوضہ کشمیر پر ہونے والے ظلم و جبر پر خاموش رہے۔

پی پی اور ن لیگ کے برعکس تحریک انصاف کے پاس نہ صرف اپنی کارکردگی کے متعلق بتانے کے لیے بُہت کچھ تھا بلکہ اس نے کشمیر کے مستقبل کے بارے میں بھی اپنی پالیسیاں دیں۔ تحریک انصاف نے نہ صرف صحت انصاف کارڈ، احساس پروگرام، نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم، سستے قرضے، ٹیکنیکل تعلیم، نئی یونیورسٹیوں اور ہسپتالوں کا قیام، لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے بلدیاتی اداروں کا قیام، شاہراؤں کی تعمیرِ نو جیسے بہت سے وعدے کیے بلکہ اپنی حکومت کے کے پی کے اور پنجاب میں کروائے گئے کام بھی گنوائے۔
اس کے علاوہ مودی اور نواز شریف کی دوستی کو نہ صرف ایکسپوز کیا بلکہ مقبوضہ کشمیر میں انڈیا کے ظلم اور جبر پر بھی کھل کر تنقید کی۔ عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کو آزاد کروانے اور آزاد کشمیر میں ریفرنڈم کروانے کا وعدہ کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیر کی آواز بلند کرنے اور پوری دنیا میں کشمیر کا مقدمہ لڑنے کا وعدہ بھی کیا۔

تین بڑی جماعتوں کی الیکشن کمپین میں جہاں ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے اپنی ساری انرجی تنقید کرنے کی حد تک محدود رکھی، وہیں تحریک انصاف نے سارا زور اپنی کارکردگی دکھانے اور روشن مستقبل کے سنہرے خواب دکھانے میں لگایا۔ اور ظاہر ہے لوگوں کو تنقید سے زیادہ سنہرے وعدے لبھاتے ہیں اسی لیے لوگوں کا رحجان تحریک انصاف کی طرف رہا۔

اگر انتخابات سے پہلے ہونے والے سروے اور انتخابی نتائج کا موازنہ کیا جائے تو گیلپ سروے میں 44 فیصد مقبولیت کے برعکس تحریک انصاف نے 33 فیصد ووٹ حاصل کیے، یہ نتیجہ دنیا نیوز کے سروے میں پی ٹی آئی کی 35فیصد مقبولیت کے زیادہ قریب ہے۔ گیلپ سروے میں ن لیگ کی مقبولیت 12 فیصد اور دنیا نیوز کے سروے میں 29 فیصد تھی، لیکن ن لیگ صرف 26 فیصد ووٹ حاصل کر سکی۔ پیپلز پارٹی کی مقبولیت گیلپ سروے میں 9 فیصد اور دنیا نیوز سروے میں 19 فیصد تھی، پی پی نے 18 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

آزاد کشمیر میں لوگوں کے رحجان سے واقف ہونے کے باوجود ‏چند صحافی کھلم کھلا ن لیگ کی نہ صرف الیکشن کمپین کرتے رہے بلکہ الیکشن کے نتائج آتے ہی یا تو اولمپکس کی اپ ڈیٹس دینے لگ گئے یا پھر دھاندلی کا بیانیہ دہراتے رہے۔

اگر غیر جانبداری سے تجزیہ کیا جائے تو ن لیگ کے دھاندلی کے الزامات مضحکہ خیز دکھائی دیتے ہیں۔ کشمیر کے انتخابات کا انعقاد نہ صرف ن لیگی حکومت کی زیرِ نگرانی ہوئے بلکہ نواز لیگ نے سرکاری وسائل کا بھی بے دریغ استعمال کیا۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں پر پتھراؤ بھی ہوا اور فائرنگ بھی، پی ٹی آئی کے کارکن زخمی بھی ہوئے اور شہید بھی۔ اس سب کے باوجود بھی ناکامی راجہ فاروق حیدر کی حکومت کا مقدر بنی۔ اور سب سے زیادہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ دھاندلی کا الزام صرف وہاں لگایا گیا جہاں نون لیگ کو شکست ہوئی سوال یہ ہے کہ دھاندلی صرف اُس حلقے میں ہی کیوں ہوتی ہے جہاں سے ن لیگ ہار جائے۔

مصنف کے بارے میں:
ڈاکٹر محمد عمیر اسلم ایک تجزیہ نگار اور کالم نگار ہونے کے ساتھ ایک سرٹیفائیڈ ڈیجیٹل میڈیا جرنلسٹ بھی ہیں۔
Facebook/LinkedIn/Twitter: @dctrumair

Facebook Comments

comments

Comments are closed.