پاکستان میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور اس کا استعمال

EVM Pakistan
EVM Pakistan

دنیا اب ڈیجیٹلائز ہو چکی ہے اور وقت تیزی سے گزر رہا ہے ہر چیز اب تیز اور ڈیجیٹل ہوتی جا رہی ہے
پاکستان میں موجودہ حکومت نے ڈیجیٹل الکٹرانک ووٹنگ مشین پر کام کرنے پر زیادہ فوکس کیا اور کام بھی کیا ہے ڈیجیٹل الکٹرانک ووٹنگ مشین اس سے پاکستان میں الیکشن کے دوران ووٹنگ کا سسٹم نہایت تیز اور آسان ہو جائے گا خاص کر سمندر پار پاکستانیوں کے لئے اور بھی آسانی کے وہ وہیں بیٹھ کر اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں گے اب سوال اور مسائل پیدا ہوتے ہیں کے اپوزیشن جماعتیں اس سے اتفاق کیوں نہیں کرتی اور اگر کرتی بھی ہیں تو کھلے دل سے اسے سپورٹ کیوں نہیں کرتیں بظاہر میرا مشاہدہ یہ ہے کے کئی اپوزیشن پارٹیاں اس پر اتفاق اس لئے نہیں کرتیں کہ انھیں معلوم ہے کہ سمندر پار پاکستانی زیادہ تر وزیراعظم عمران خان کو ہی سپورٹ کرتے ہیں اور ان کو سپورٹ کرنے کی وجہ صرف سیاست ہی نہیں بلکہ کرکٹ بھی ہے اور زیادہ تر سمندر پار پاکستانی ووٹ بھی وزیراعظم عمران خان کو ہی دیں گے چلیں اگر اس نقطے کو بھی نظر انداز کردیا جائے تو اپوزیشن ایک اور نقطہ اٹھاتی ہے کہ اس سے ووٹنگ سسٹم ہیک ہونے کا خطرہ ہے خاص کر جب ووٹنگ الیکٹرانک ہوگی تو، تو اس مسئلے کا حل بھی موجود ہے کہ ایسے مضبوط سافٹ ویئرز بنائے جائیں کے ووٹنگ سسٹم ہیک ہونے کا چانس ہی نا رہے.

آپ مجھے یہ بتائیں کہ آخر بھارت میں بھی تو الیکٹران ووٹنگ مشین کا استعمال ہوتا ہے جب بھارت کر سکتا ہے تو پاکستان اس پر عمل کیوں نہیں کر سکتا بات صرف وہی کہ کچھ عناصر کو اپنی سیاست ڈوبتی ہوئی نظر آتی ہے کے ووٹ نہیں ملیں گے اور جب ووٹ نہیں ملیں گے تو حکومت میں کیسے آئے گی اپوزیشن جماعتوں کا انکار کم از کم مجھے تو اسی بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کے اپوزیشن کو اپنی اپنی سیاست کا خطرہ ہے خطرہ تو پھر حکومتی جماعت کو بھی ہو سکتا ہے ہو سکتا لے کے حکومتی جماعت کو ووٹ نا ملیں لیکن جناب ایسا ہرگز نہیں جس کی نیت صاف ہو تو اسے کوئی ڈر نہیں ہوتا اگر خوف ہوتا تو وزیراعظم عمران خان سب سے پہلے اسے ریجیکٹ کر دیتے.

اس سلسلے میں وزیر سائنس اور ٹیکنالاجی جناب شبلی فراز اور وزیر انفارمیشن اور براڈ کاسٹنگ جناب فواد چوہدری صاحبان نے بہت کام کیا ہے.

الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی افادیت کے ایک دو پوائنٹس

نمبر ایک :

اگر یہ سسٹم لاگو ہو جائے تو کتنی آسانی ہوگی ووٹ کی گنتی کے مرحلہ بھی آسان ہو جائے گا

نمبر دو :

کسی بھی جماعت کا راہنما یہ کلیم نہیں کرے گا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے

اور اس کے علاوہ بہت سے فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں کے جن کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے،
مگر بات ہے صرف نیت کی کچھ مہینوں پہلے ن لیگ کا راہنما احسن اقبال نے سمندر پار پاکستانیوں کے بارے ایک بیان دیا کہ انھیں پاکستان کی سیاست کی سمجھ ہی نہیں اور یہ بیان دراصل ووٹنگ سے ہی متعلق تھا جس پر تمام پاکستانی خاص کر سمندر پار پاکستانیوں نے بہت سے سوالات اٹھائے اور تنقید کی بوچھاڑ کی بے شک ہر بیان سوچ سمجھ کر ہی بولنا چاہیے لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ جب نیت میں کھوٹ ہو تو پھر کہیں نا کہیں جھوٹ سامنے آ جاتا ہے اور انسان پکڑا جاتا ہے.
پاکستان میں اس ووٹ سسٹم پر کئی سالوں سے بات چیت ہوئی اور کچھ سیاس پارٹیاں اسے اپنا کریڈٹ گرادنتی ہیں مگر مجھے کوئی یہ تو بتائے کہ وہ تمام سیاسی پارٹیاں اپنے دور حکومت میں اس معاملے پر خاموش کیوں رہیں یا کام کیوں نہیں کیا اور اب حکومتی پارٹی کو یہ کرنا پڑ رہا ہے جبکہ ہو سکتا ہے کے اگلے الیکشن میں نتائج حکومتی پارٹی کے حق میں نا آئیں دراصل وزیراعظم عمران خان کرسی کے لئے نہیں بلکہ کچھ سسٹم کو ٹھیک کرنے آئیں ہیں وہ تو خود کہتے ہیں کہ اگر میں نے کام ٹھیک نا کیا تو لوگ مجھے ووٹ بھی نہیں دیں گے میں نے پہلے بھی لکھا کہ یہ صرف نیتوں پر منحصر ہوتا ہے آپ کی نیت صاف ہوگی تو ملک آگے چلے گا پھلے پھولے گا حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں لیکن اداروں کا نظام اگر ٹھیک نا کیا جائے تو مزید تباہیاں ہی آتی ہیں اور پھر دنیا آپ کے ملک کے نظام پر انگلی اٹھاتی ہے اور مزاق اور طنز کے نشتر برساتی ہے. وزیراعظم عمران خان اور حکومتی پارٹی نے اپوزیشن پارٹیوں سے قومی اسمبلی اور دیگر جگہوں پر بارہا کہا کے آئیے ووٹنگ کے نظام پر بات چیت کرتے ہیں مسائل کا حل نکالتے ہیں مگر شائد کچھ عناصر کی آئیں بائیں شائیں اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ انھیں وزیراعظم کے کئے ہوئے ہر اقدام سے کچھ جلن سی ہے کہ بس ان کے کیئے ہؤے کسی بھی کام پر دلچسپی اور سنجیدگی نہیں دکھانی.

ہمیں سیاست سے پہلے ایک اچھے پاکستانی بن کر دنیا کو یہ دکھانے کی ضرورت ہے کہ ہم کچھ معاملات پر ایک ہیں یا پھر ووٹنگ کے نظام پر ہم چاہتے ہیں کے تبدیلی لائی جائے.

ﷲ پاکستان کے اہم مسائل کا حل جلد کروائے آمین.

تحریر : سید محمد مدنی

Twitter: @M1Pak

Facebook Comments

comments

Comments are closed.