گوادر اور بلوچستان کی ترقی۔ بلاگ

India targeting CPEC by criticizing Asim Saleem Bajwa

پاکستان جغرافیائی لحاظ سے ایک خوش قسمت ملک ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کا چپہ چپہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال ھونے کے باوجود معیشت کی کسمپرسی ہمیشہ سے ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ رہی ہے۔ کے پی اور بلوچستان وھ صوبے ہیں جو دھشت گردی سے بہت متاثر ھوئے ہیں۔ بلوچستان میں سیاسی عدم استحکام، امن وامان کی بگڑتی صورتحال اور مواصلات اور صنعت نہ ہونے کے وجہ سے صوبے میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان حالات میں چائنہ پاکستان اکنامک کاریڈور پورے ملک اور خصوصی بلوچستان کی ترقی کی جانب ایک اہم زینہ ہے اور گوادر اس زینے کی اہم کڑی ہے۔ سی پیک میں شامل انفاسٹرکچر ، انرجی اور صنعت کے ساتھ ساتھ گوادر بندر گاہ کی تعمیر ملکی ترقی کے لئے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ چین پاکستان اکنامک کاریڈور ، بی آر آئی پروگرام کے ماتھے کا جھومر ہے اور گوادر، سی پیک کے سر کا تاج ہے ۔ سی پیک کی تا ریخ 2005 سے شروع ھوتی ہے -جب گوادر پورٹ کی تعمیر کا آغاز چائناسی پورٹ ہولڈنگ کمپنی کے سپرد کیا گیا۔پچھلےستر سالوں کی سیاسی پالیسیوں اور دیگر وجوہات کی بنا پر پاکستان انفراسٹرکچر ، بجلی کی وجہ سے معیشت کے بحران کا شکار رہا ہے۔ سی پیک جہاں پاکستان میں ریل روڈ ، صنعت، زراعت ، بجلی ، سماجی اور تعلیمی میدان میں بہتری لائے گا وہیں یہ کا ریڈور چین کو سمندری راستوں سے تجارت میں آسانیاں پیدا کرے گا۔ ۔ چین کی 60٪ تیل اور گیس کی تجارت آبنائے ملا کا اور ساؤتھ چائنہ سی سے ہوتی ہے۔ ابھی چین کی جنوبی حصوں کو سمندری راستوں سے مال برداری کے لئے 16000 کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ھے۔ گوادر پورٹ کی تعمیر سے اب یہ فاصلہ کم ھو کر 2500 کلو میٹر تک آ جائے گا-
گوادر پورٹ اب تیار ہو کر اپریشنل ہوچکا ہے۔ ابھی بندرگاہ پر ٹریفک بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ گوادر کا نام ذہن میں آتے ہی سمندر کا تصور ذہن میں آتا تھا۔ یہ ایک چھوٹا سا فشگ ٹاؤن تھا جو اپنی جغرافیائی اہمیت کے اعتبار سے اب دنیا کی توجہ حاصل کر چکا ہے۔ چین کا سب سے پہلا سپیشل اکنامک زون شنجن بھی فشگ ٹاؤن تھا اور آج اس کا شمار دنیا کے سب سے بہترین صنعتی شہروں میں ہوتا ہے۔
انڈین اوشن ایک اہم سمندری گزر گاہ ھے اور گوادر اس تجارتی گزہ کے اھم مقام پر واقع ھے جس سے گوادر پورٹ کی اہمیت بہت واضح ہے۔ یہ پاکستان کی تیسر ی بندرگاہ ہے۔ یہ ایران کی بندرگاہ چاہ بہار سے صرف 75 کلومیٹر دور ہے۔ گوادروسطی اایشائی ریاستوں تک رسائی کا واحد راستہ ھے۔ اسی طرح گوادر مڈل ایسٹ ، یورپ اور بر اعظم افریقہ تک تجارتی حصول کی اھم بندرگاہ ھے۔ گوادر شہر مستقبل قریب میں پاکستان کا اھم ترقیاتی شہر ھو گا۔گوادر پورٹ فری زون فیز -ون جو کہ ساٹھ ایکڑ پر محیط ہے وہ تیار ہو چکا ہے۔فری زون میں ابھی تک مجموعی طور پر ۴۶ سرمایہ کار آچکے ہیں ۔ گوادر فری زون فیز -ٹو بائیس سو ایکر پر مشتمل ہوگااس کا افتتاح وزیر اعظم اگلے چند ماہ میں کریں گے۔پہلے فیز مممیں مکمل ہونے والےفری زون میںابھی تک 12 صنعتی یونٹ تعمیر ھو رھے ہیں۔ جن میں سے 3 مکمل ہو چکے ہیں اور وہاں کام جاری ھے۔ گوادر کی اہمیت کا ایک مزید پہلو بلوچستان اور گوادر شہر کے باسی اور اس میں باہر سے آکر آباد ہونے والوں کے لئے روز گار کے مواقع ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی سٹرٹیجک لوکیشن اور پاکستان کی حالیہ کامیابیاں

فری زون میں ۱۲۰۰ افراد کو مستقل نوکریاں مل چکی ہیں اور پورٹ اور فری زون کی تیاری میں پچھلے ۲-۳ سالوں میں ۱۲۰۰۰ افراد کو روزگار ملا ہے۔ فری زون کو منصوبے کے تحت چار فیز میں ۲۰۱۵ سے ۲۰۳۰تک ڈویلپ کیا جارھا ھے۔ اور فری زون ملکی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
ایسٹ بے ایکسپریکس وے، نیو گوادر انٹرنیشنل ایئر پورٹ، چائنا پاکستان فرینڈ شپ ہسپتال، گوادر ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ تیزی سے تیاری کے مراحل پورے کر رہے ہیں۔ سی پیک کے تحت گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے کی تکمیل ًتقریبا مکمل ہے ۔ ایسٹ بے ایکسپریس وے کی تعمیر گوادر بندرگاہ کے لئے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگی جس کے ذریعے پورٹ کے لئے پوری ٹریفک میں روانی پیدا ہو جائےگا۔ نیزایسٹ بے ایکسپریس وے گوادر بندرگاہ اور اس کے فری زون کو قومی شاہراہوں کے جال سے منسلک کرے گا۔ ماحولیات اور سیوریج کے نظام کے لئے 2. 26 ارب روپے سے پراجیکٹ شروع کیا جا رہا ہے۔
گوادر میں پینے کے صاف پانی اور بجلی کے مسائل نمایاں ہیں سی پیک کے زیر انتظام گودر ایک انتہائی اہمیت کاحامل منصوبہ ہے۔
گوادر میں صاف پانی کا بہت مسئلہ ہے ۔ اس وقت 5 ملین گیلن صاف پانی روزانہ ٹینکرز کے زریعے لوگوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔ اڑھائی ملین گیلن مزید پانی چند ماہ میں دستیاب ہوگا اور اس طرح اس مسئلے پہ کافی حد تک قابو پا لیا جائے گا۔ تیسرے مرحلے میں صاف پانی باقاعدہ واٹر سسٹم کے زریعے عوام تک پہنچایا جائے گا جس پر تیزی سے کام جاری ہے۔
اسی طرح 5 ملین گیلن سمندر ی نمکین پانی کو 4۔3 ارب روپے کی لاگت سےقابل استعمال اور پینے کے قابل بنانے کا پراجیکٹ شروع کیا جا رہا ہے۔ جس سے گوادر میں صاف پینے کے پانی کا مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل ہو جائے گا۔چھیالیس ارب روپے کی لاگت سے گوادر پورٹ کو مزید بہتر بنانے کے لئے بریک واٹر کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ گوادر میں بجلی کی قلت ہے ۔ اسی وقت 110 میگا واٹ بجلی موجود ہے جبکہ ضرورت 150 میگاواٹ کی ہے۔ مین ٹرانسمین لائن سے گوادر شہر میں بجلی پہنچانے کا کام شروع ہے اور 300 میگاواٹ کول پاور پلانٹ بھی لگانے کے لئے تیاری آخری مراحل میں ہے۔
گوادر بندرگاہ کی اہمیت کے پیش نظر تمام تر حکومتی تووجہ اس منصوبے کی تکمیل پہ ہے۔
تحریر – عتیق شیخ

Facebook Comments

comments

Comments are closed.