حامد میر کی پاکستان مخالف بیانئے کی تاریخ پر ایک نظر

Hamir Mir Anti Pakistan Narrative
Hamir Mir Anti Pakistan Narrative

حامد میر کی پاکستان مخالف بیانئے کی تاریخ نئی نہیں ہے۔یہ سلسلہ آج سے ایک دہائی قبل ممبئی حملوں کے بعد شروع ہواجب بھارت کی جانب سے یہ الزام لگایا گیا کہ یہ حملے پاکستان سے کئے گئے ہیں تو حامد میر نے پاکستان میں اجمل قصاب نامی ممبئی حملوں کے مبینہ ملزمان کا گھر تک “ڈھونڈ” نکالا

اور جیو نیوز پر بیٹھ کر بھارت کے بیانئے کو بھرپور طریقے سے آگے بڑھایا۔ اسکے بعد جیو نیوز نے وہ ویڈیو اپنے تمام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے ڈیلیٹ تو کردی مگر حامد میر کا پاکستان مخالف بیانئے کا سلسلہ جاری رہا۔ 

غیر جانبداری ہی وہ واحد پہلو ہے جو ایک صحافی کو صحافی بناتا ہےمگر حامد میر ہمیشہ ایک سیاسی جماعت کے لئے کھلم کھلا سپورٹ رکتھے نظر آئے۔ مگر بات یہاں تک ہی نہیں رکی۔ سیاسی طور پر اگر کوئی صحافی کسی پارٹی کو سپورٹ کرتا بھی ہے تو اسکو یہ کہہ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے کہ وہ اسکا ذاتی فیصلہ تھا مگر یہاں بات سیاسی سپورٹ سے بہت آگے جا چکی تھی۔ حامد میر نے ایک موقع پر نہیں بلکہ بے شمار مواقع پر ریاست مخالف بیانئے کو ہی پروموٹ کیا۔ نہ صرف خود پروموٹ کیا بلکہ جو جو شخص ریاست خلاف بولا میر صاحب نے اسکو کھلم کھلا سپورٹ کیا۔ آیئے نظر ڈالتے ہیں حامد میر کے الزامات پر ایک نظر:

حامد میر پر حملہ اور اس پر رد عمل

چند سال قبل حامد میر پر ایک قاتلانہ حملہ ہوا۔ اس حملے کے فوراً بعد ہی جیو نیوز پر یہ بریکنگ نیوز چلنا شروع ہو گئی کہ “آئی ایس آئی نے حامد میر پر قاتلانہ حملہ کردیا”۔ یہ بریکنگ نیوز بغیر کسی تحقیق بغیر کسی ثبوت کے لگاتار 8 گھنٹے تک چلتی رہی اور پاکستان کے اداروں کے خلاف لگاتار رپورٹنگ کی جاتی رہی

حامد میر کا صحافتی اتحاد

اس “حملے” کے بعد حامد میر نے ان تمام صحافیوں کے بیانئے کو پروموٹ کرنا شروع کر دیا جو انہی کی طرح ریاستی اداروں کے خلاف لکھتے اور بولتے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی صحافی ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف کچھ بھی لکھتا یا بولتا تو حامد میر صاحب اسکو ایک حقیقت بنا کر پیش کرتے۔ گو کہ میڈیا پر اپنی خواہشات کو حقیقت بنا کر پیش کرنے کا سلسلہ چل نکلا اور حامد میر کی قیادت میں ریاست کے خلاف لکھنے والوں کا ایک “اتحاد” بن گیا۔ کچھ عرصہ قبل تک تو یہ اتحاد صرف بولنے کی حد تک اداروں کے خلاف پراپگنڈہ کرتا تھا مگر گزشتہ چند ماہ کے دوران اس گروپ نے ایک نئی حکمت عملی اپنائی۔ 

اس حکمت عملی کے تحت یا تو اس گروپ کا کوئی صحافی “اغوا” ہوجاتا اور یا پھر کسی پر حملہ ہوجاتا۔ اس سارے معاملے میں ایک چیز مشترک تھی کہ ہر مبینہ اغوا ہونے والا اور ہر مبینہ حملے کا نشانہ  بننے والا صحافی ایک ہی الزام لے کر چلتا تھا کہ یہ حملہ فوج اور “آئی ایس آئی” نے کروایا ہے یا پھر یہ اغوا انہوں نے کیا ہے۔ مطیع اللہ جان کا اغوا اور ابصار عالم پر مبینہ حملے کے بعد ایک یو ٹیوب صحافی اسد طور پر حملہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور یہ سلسلہ اسد طور والے معاملے کے بعد شدت پکڑ گیا۔ اسد طور پر مبینہ تشدد کے بعد انہوں نے یہ الزام لگایا کہ مجھے آئی ایس آئی کے لوگ مارنے آئے تھے ۔ اسکے بعد اسی صحافتی اتحاد کی  جانب سے ایک احتجاج کیا گیا جس میں حامد میر نے ریاستی اداروں پر حملے کرنے کی تمام حدیں پار کیں۔ حامد میر نے اس احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کیا کہا۔ یہ ویڈیو دیکھیں:


یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد آپ حامد میر کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟ کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے سے ہمیں ضرور آگاہ کریں۔ 

یہاں کلک کرکے مزید خبریں پڑھیں

Facebook Comments

comments

Comments are closed.