Imran Khan and his disqualification case : A detailed analysis

0

Imran Khan and his disqualification case : A detailed analysis

یہ کیس پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کی تاریخ میں ایک منفرد کیس ہے۔ حقائق اس قدر دلچسپ اور مضحکہ خیز ہیں کہ آپ پہلے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوں گے اور پھر اس وطنِ عزیز کے نظامِ عدل پر خوب جی بھر کے آنسو بہائیں گے۔
.
گزشتہ سال نومبر میں حنیف عباسی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں عمران خان کے خلاف ایک درخواست جمع کروائی جس میں یہ الزامات عائد کیے گئے تھے کہ عمران خان نے گزشتہ الیکشن میں اپنے اثاثے چھپائے تھے، جن میں قابلِ ذکر ”نیازی سروسز لمیٹڈ” آفشور کمپنی ہے، جس کو بنیاد بنا کر نااہلی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس سے پہلے دو سال قبل اکبر ایس بابر نے پاکستان تحریکِ انصاف کے خلاف غیرملکی فنڈنگ کے حوالے سے بھی ای سی پی میں درخواست دائر کر رکھی تھی۔ اسی سال 28 فروری کو حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے سپریم کورٹ میں جلد سماعت سے متعلق درخواست جمع کروائی۔
.
اس پر سماعتیں چلتی رہیں اور ماہِ جون کے دوران اطلاعات ملیں کہ شاید عمران خان کو بھی نااہلی کا سامنا کرنا پڑ جائے جس پر عمران خان نے ٹویٹ بھی کیا کہ عدالت بے شک مجھے سو بار ناہل قرار دے دے لیکن میں نواز شریف کو نہیں چھوڑوں گا اور میرے خیال میں ایسی بات ایک لیڈر ہی کر سکتا ہے جسے اپنے نااہل ہونے کی قطعاً کوئی فکر نہیں ہے لیکن اسے صرف قوم کے اس پیسے کا درد ہے جو چوروں اور لٹیروں نے لوٹ کر اس ملک کو غربت کی دلدل میں دھنسا رکھا ہے۔
.
منطقی اعتبار سے یہ کیس ایک جعسازی اور شعبدہ بازی ہے جو صرف یہ دکھانے کے لیے کیا گیا ہے کہ اگر نواز شریف نااہل ہو گا تو ہم عمران خان کو بھی نااہل کروا کر چھوڑیں گے اور معزز جج صاحبان وہ ریفری ہوں گے جو دونوں فریقین کو نااہل قرار دے دیں گے اور نون لیگ والے اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیے عمران خان کی نااہلیت پر جشن منائیں گے۔ میرے نذدیک اس کیس کا بہترین نام ”بیلنس پالیسی” ہو سکتا ہے کہ جہاں نواز شریف نااہل ہو گا وہاں بیلنس کرنے کے لیے عمران خان کو بھی نااہل کر دیا جائے گا تا کہ نون لیگ والے بھی خوش ہو جائیں۔ سلام ہے اس انصاف کے نظام کو۔
.
نیازی سروسز لمیٹڈ ایک آفشور کمپنی تھی جس کے بنائے جانے کی وجہ برطانوی قانون کے مطابق اس ٹیکس کی رقم کو بچانا تھا جو کہ ایک پاکستان شہری پر قانونی طور پر لاگو ہی نہیں ہوتا تھا۔ اس لیے یہ آفشور کمپنی 1983 میں بنائی گئی، پھر اس کمپنی کے ذریعے فلیٹ خریدا گیا، جس کی ”سیلز ڈید” عمران خان نے گوشواروں میں لگا دی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس آفشور کمپنی کا وہ فلیٹ اثاثہ تھا، جب وہ فلیٹ ہی ڈیکلئیر کر دیا تو آفشور کمپنی کو ظاہر کرنے یا نہ کرنے کا کوئی تک ہی نہیں بنتا۔ اور اگر آفشور کمپنی (نیازی سروسز) کے ذریعے کوئی ٹیکس چوری کی گئی ہے تو وہ تو برطانوی قانون کی خلاف ورزی ہوئی، اس کا مقدمہ پاکستان میں بنانا تو بالکل بےوقوفانہ بات ہے۔ اور سب سے بڑھ کر کہ نواز شریف نے سارا پیسہ پاکستان سے لوٹ کر باہر لے کر گیا ہے جب کہ عمران خان سارا پیسہ باہر سے کما کر پاکستان لایا ہے۔ اب یہ کیس محض شعبدہ بازی نہیں تو اور کیا ہے ؟
.
دوسرا مسلہ ”بیرونی فنڈنگ” کا ہے۔ اس میں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ عمران خان تیس سال سے فلاحی کام کر رہا ہے اور آپ کو پتہ ہے کہ فلاحی کام ہمیشہ چندے جمع کر کے ہوتا ہے۔ مخیر حضرات حسبِ توفیق پیسے دیتے ہیں اور وہ پیسہ فلاح میں خرچ ہوتا ہے۔ اس لیے عمران خان نے دنیا بھر میں ہزاروں کے تعداد میں اب تک دورے کیے ہوں گے اور وہاں سے پیسہ اکٹھا کیا گیا ہو گا اور جس پیسے کو ”غیر ملکی فنڈنگ” کہا جا رہا ہے، وہ پیسہ ان تارکینِ وطن کے خون پسینے کی کمائی کا ہے جن کے سالانہ اربوں روپے سے یہ ملک چل رہا ہے۔ ”فنڈنگ” تو ایسے کہا جا رہا ہے جیسے پتہ نہیں راء اور موساد عمران خان کو فنڈنگ کر رہی ہیں۔
.
جنابِ محترم جہاں فنڈنگ ہوتی ہے وہاں ایجنڈے بھی ہوتے ہیں، وہاں مقاصد اور ان کی تکمیل کے لیے طریقہ کار بھی ہوتے ہیں۔ یہ کیسی فنڈنگ ہے کہ غیر ملکی ایجنسیاں اور ادارے عمران خان کو فنڈنگ کر رہے ہیں اور نہ تو اس کا کوئی ایجنڈا ہے اور نہ اس کی کرپشن اور دھاندلی کے خلاف تحریکوں کے علاوہ کوئی اور جدوجہد ؟ اگر غیر ملکی ایجنسیاں عمران خان کو فنڈنگ کرتی ہیں تو پھر اس کا لائف سٹائل بھی شاہانہ ہونا چاہیے تھا ؟ وہ پچھلے دو سال سے ایک کالے ٹراؤزر اور پولو کی سبز ٹی شرٹ میں ہی نظر آتا ہے، میرے خیال سے تو عمران خان کے پاس کچھ اچھے کپڑے بھی نہیں ہوں گے کہ وہ ہر دفعہ پہن کر کم سے کم ٹوئیٹر پر کچھ تصاویر ہی اپلوڈ کر دے۔ تو یہ بات بھی غیر منطقی ہے کہ عمران خان کو ”فنڈنگ” ہوتی ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ تارکینِ وطن عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں اور ماشاءاللہ اس مردِ قلندر نے کبھی ان کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائی اور اس ”غیر ملکی فنڈنگ” کا نتیجہ ہے کہ لاہور اور پشاور میں دو شوکت خانم ہسپتال ستر فیصد مریضوں کا مفت علاج کر رہے ہیں اور میانوالی میں نمل یونیورسٹی بنا کر علم کے ایک شہر کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اب بھی اگر جاہلوں کی آنکھیں نہ کھلیں تو اللہ ہی ان کو ہدایت دے۔
.
میں نے اب تک عمران خان پر الزامات کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے، اس کو میں ایک نہایت سادہ سی مثال کے ساتھ آپ کو سمجھاتا ہوں تا کہ آپ کو سمجھ لگے کہ عمران خان کو کیسے زبردستی اس میں پھنسا کر ”بیلنس” کیا جا رہا ہے۔
.
فرض کیجیے آپ آج سے چند سال پہلے کسی دوسرے شہر سے اپنے گھر ایک ستر انچ کا رنگین ٹی وی لے کر آتے ہیں۔ کچھ دن بعد آپ نے دیکھا کہ آپ کے ہمسائے محمد نواز (فرضی نام) نے ایک جگہ پچیس ہزار روپے کی چوری کی اور ایک ٹی وی کی دکان پر جا کر دکاندار کو جان سے مار دینے کی دھمکی دیتے ہوئے پچیس ہزار میں ویسا ہی ستر انچ کا ٹی وی جو کہ پچاس ہزار کا تھا، خرید لایا۔ جب آپ نے یہ کھلم کھلی بدمعاشی اور دھونس دیکھی تو آپ قاضی کی عدالت میں جاتے ہیں اور محمد نواز کے خلاف کیس دائر کر دیتے ہیں کہ اس نے چوری بھی کی اور دھونس بھی جمائی۔ قاضی محمد نواز کو طلب کرتی ہے اور محمد نواز جب ٹی وی کی رسید اور پچاس ہزار روپے کی ذریعہِ آمدن نہیں بتا پاتا تو وہ قاضی کے سامنے آپ سے کہتا ہے کہ اگر میں نے چوری کے پیسوں اور دھمکی سے ٹی وی خریدا ہے تو کیا ہوا، تمہارے پاس بھی تو اپنے ٹی وی کی رسیدیں نہیں ہیں۔ یہ سن کر آپ اپنا سر پیٹ لیں گے کہ میرے ٹی وی کی رسیدوں کا تمہاری چوری اور دھونس سے کیا تعلق ہے ؟
.
اور اگر قاضی بھی ملزم محمد نواز کا ہم زبان ہو جائے اور کہے کہ اگر تم دونوں کے پاس رسیدیں نہیں ہیں تو میں یا تم دونوں کو جیل میں ڈال دیتا ہوں یا پھر دونوں کو بری کر دیتا ہوں۔ تو یقین کیجیے آپ ایک بہت بڑی مشکل میں پھنس جائیں گے اور آپ کے پاس سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں ہو گا کہ یا تو آپ اس بلیک میلنگ کے ہاتھوں تنگ آ کر محمد نواز کے خلاف اپنا کیس واپس لے لیں اور یا پھر اپنی جائز اور حلال کی کمائی کے ٹی وی کی محض رسید نہ دکھانے پر خود کو بھی قانون کے حوالے کر دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو سوچیے کہ آپ پر کیا بیتے گی ؟ اب آپ سو تاویلیں گھڑیں اور سو بہانے بنائیں، ملزم اور قاضی نے آپ کو بھی پھنسا دیا ہے، ملزم کی تو خیر کوئی عزت تھی ہی نہیں آپ بھی شہر میں بدنام ہو جائیں گے
.
بس !! عمران خان کو بھی اسی ”بیلنس پالیسی” کے تحت نااہل قرار دیا جا رہا ہے ورنہ نہ تو عمران خان چور ہے، نہ کرپٹ ہے، نہ ٹیکس چوری کرنے والا ہے، نہ غیر ممالک میں پیسہ، جائیدادیں اور کاوربار بنانے والا شخص ہے، نہ ہی غیرقانون طریقوں سے گھر خریدنے والا ہے۔ اس کا ماضی بھی سب کے سامنے ہے اور اس کا حال بھی سب کے سامنے ہے۔ یہ قوم عمران خان کو 1970 سے جانتی ہے۔ اس کا قصور صرف اتنا ہے کہ اس نے چور کی نشاندہی کی اور اس کے کیس کی پیروی کی، بس یہ قصور ہے عمران خان کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس یہ قصور ہے
.
تحریر: عاشورعاصم

Facebook Comments

comments

Leave A Reply