India targeting CPEC by criticizing Asim Saleem Bajwa

An Urdu Article by Ahmed Mansoor originally published on Bol News website where he talks about how India has been targetting CPEC by criticizing Gen (R) Asim Saleem Bajwa.

India targeting CPEC by criticizing Asim Saleem Bajwa
India targeting CPEC by criticizing Asim Saleem Bajwa

بھارتی “میجر آریہ” اور اس کے پاکستان میں موجود “ہمنوائوں” کے پراپیگنڈے کا بظاہر ہدف عاصم سلیم باجوہ مگر اصل نشانہ سی پیک ہے۔

2009 کی ایک صبح جنوبی وزیرستان کے علاقے کوٹ کئی کے ہیلی پیڈ پر لینڈ ہوئے ایم آئی 17 سے اترے تو پہلا مصافحہ آپریشن راہ نجات کے کمانڈر سے ہوا جو ہمیں حکیم اللہ محسود کے آبائی قصبہ سے لے کر بیت اللہ محسود کے سراروغہ تک کے علاقے کو دہشت گردوں کے قبضے سے واپس حاصل کرنے کی پاک فوج کی کامیابیوں کی تفصیل بتانے کے لیئے خود صحافیوں کو ویلکم کرنے آئے تھے۔ مصافحہ کے دوران سینے پر نام دیکھا “عاصم باجوہ” لکھا تھا، پاکستان کے پراعتماد، پرجوش، پرعزم سپوت سے یہ میرا پہلا تعارف تھا۔

آئی ایس پی آر کے ذریعے آپریشن راہ نجات شروع ہونے کے فورا بعد ملنے والی اہم رسائی سے واپسی ہوئی، جی او سی 40 ڈویژن میجر جنرل عاصم باجوہ کی زبانی آپریشن کی کامیابیوں کی تفصیل بریکنگ نیوز تھی، ٹی وی پر آپریشن کمانڈر کے ساتھ نظر آیا تو صادق آباد سے میرے بڑے بھائیوں جیسے دوست ڈاکٹر طالوت کا فون آیا۔۔ اوئے تم بھائی “عاصم” سے ملے، کیسے ہیں وہ۔

حیران ہو کر پوچھا، آپ جنرل عاصم کی بات کر رہے، آپ کے عزیز ہیں؟

ہنسنے لگے، میرا سگا بھائی ہے یار وہ۔

ماشاءاللہ آپ کے والد کی طرح آپ سارے بھائیوں کو ہی اللہ نے کامیاب کیا۔ حیران ہو کر دیاگیاجواب مجھے آج بھی یاد ہے۔

ضلع رحیم یارخان کی تحصیل صادق آباد سندھ کے ساتھ جڑا پنجاب کا آخری شہر ہے جو کشمور کے ذریعے سوئی، بلچستان سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جغرافیائی اہمیت کے حامل اس شہر کا ایک اور اعزاز دین سے قربت اور نیک نام شہرت پانے والے ہر دلعزیز ڈاکٹر محمد سلیم باجوہ شہید کا خاندان ہے، والد کی اپنے پروفیشن اور سماجی سرگرمیوں کے ذریعے اپنے شہر کے لیئے انجام دی گئی خدمات کی طویل تاریخ ہے جسے بام عروج پر ان کے چھ ہونہار فرزند پہنچا رہے ہیں۔ کئی دہائیوں سے پروفیشنل ازم، محنت و لگن کا طویل و کٹھن سفر چھ بھائیوں کو اپنے اپنے شعبے میں کامیاب و کامران کر چکا ہے اور صادق آباد کے یہ باجوہ برادران آج اپنے شہر صادق آباد کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیئے قابل فخر پہچان بن چکے ہیں۔

خاص طور پر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، جنہوں نے پاکستان کے ازلی دشمن سرحد پار بھارت کی راتوں کی نیند بھی حرام کر رکھی ہے۔

تحریر کا آغاز مندرجہ بالا طویل تمہید سے کرنے کی وجہ بنا ہے بھارتی کردار “میجر آریا”۔ جس نے ٹویٹر پر چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ کے خلاف پراپیگنڈہ مہم شروع کی ہے۔ صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ اصل تکلیف کی وجہ سی پیک ہے، عاصم سلیم باجوہ کے نام کے ساتھ “چیئرمین سی پیک اتھارٹی” نہ جڑا ہوتا تو ایسا پراپیگنڈہ بھی دیکھنے کو نہ ملتا جس میں عاصم سلیم باجوہ کے بھائیوں کی تفصیلات دے کر یہ ثابت کرنے کی بھونڈی کوشش کی جا رہی ہے جیسے تمام بھائی آج جو کچھ ہیں وہ عاصم باجوہ کی وجہ سے ہیں۔ جب کہ حقیقت بالکل برعکس ہے اور ضلع رحیم یارخان سے وابستگی اور باجوہ فیملی سے روابط کی وجہ سے راقم خود حقائق سے پوری طرح واقف ہے۔

عاصم سلیم باجوہ کے دو بھائی ڈاکٹر ہیں، ڈاکٹر تنویر سلیم باجوہ اور ڈاکٹر طالوت سلیم باجوہ نشتر میڈیکل کالج میں میرٹ پر منتخب ہوئے اور آج اپنے والد کے نقش قدم پرچلتے ہوئے شعبہ طب میں نام کما چکے ہیں، ان کی شریک حیات بھی معروف ڈاکٹرز ہیں، اپنے پروفیشن سے سر کھجانے کی فرصت نہیں اور اپنے والد مرحوم کی طرح ان سب کے ہسپتال و کلینک بھی بہترین مانے جاتے ہیں۔

عاصم باجوہ کو فوج میں جانے کا شوق انہیں مختلف پروفیشن میں ضرور لے آیا مگر چونکہ پروفیشنلزم جینز می موجود تھا اس لیئے اپنے شعبے میں نام کمانے میں اپنے والد اور بھائیوں سے کسی طور پیچھے نہ رہے۔

فوجی کیئریر کے ہر مرحلے پر ٹاپ آف دی لائن پوزیشن پر پہنچے۔

بریگیڈ میجر رہے۔

یونٹ کمان کی۔

ٹرپل ون بریگیڈ کے کمانڈر رہے۔

صدر جنرل مشرف کے ڈپٹی ملٹری سیکرٹری رہے۔ انفنٹری ڈویژن کمان کی۔

دہشت گردی کی جنگ کے صف اول کے کمانڈر رہے۔

پھر آئی ایس پی آر میں آئے تو چار سال کی سربراہی کے دوران اس ادارے کی ترقی میں لازوال کردار ادا کیا اور یہیں سے دشمن ملک بھارت کی آنکھوں میں زیادہ کھٹکنے لگے۔

کسی بھی فوجی افسر کا خواب کور کمان کرنا ہوتا ہے، عاصم سلیم باجوہ کور کمانڈر سدرن کمان بنے۔

بلوچستان کے امن اور تعمیر و ترقی و خوشحالی کو مشن بنا لیا، یہیں سے سی پیک کے امور میں اتھارٹی بنتے گئے اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد ملکی قیادت نے سی پیک اتھارٹی کے سربراہ کے طور پر سب سے بہتر چوائس سمجھا۔

جس طریقے سے گزشتہ چند ماہ کے دوران سی پیک کو عاصم سلیم باجوہ نے واپس ٹریک پر ڈالا ہے اس سے بھارت کے لیئے وہ پاکستان کی ان ناپسندیدہ ترین شخصیات میں شامل ہو چکے ہیں جو بھارت کے مذموم عزائم کی راہ میں آہنی رکاوٹ ہیں۔

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ صرف بھائی ہی نہیں عاصم باجوہ کے خاندان کے دیگر افراد بھی اپنے اپنے شعبوں میں نامور ہیں، انکلز اور کزنز کی بڑی تعداد امریکہ میں آباد ہے، جن میں معروف سرجن ڈاکٹر سعید باجوہ کا نام بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ امریکہ میں بسلسلہ روزگار خاندان کے مقیم افراد کی وجہ سے ہی تین بھائی بہت شروع میں ہی امریکہ منتقل ہو گئے، تعلیم بھی وہیں مکمل کی اور پھر کاروبار سے جڑ گئے۔

امریکہ و دوسرے ملکوں میں اپنے ان تین بھائیوں کی ترقی کو لے کر پراپیگنڈے کا نشانہ بنانے والوں کے جواب میں قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ عاصم باجوہ جب فوج میں ابھی کیپٹن ہی تھے اور سیاچن میں تعینات تھے تو ان کے بھائی امریکہ جا کر کزنز کے ساتھ مل کر خاندانی بزنس میں قدم جما بھی چکے تھے۔ ندیم باجوہ، فیصل باجوہ اور عبدالمالک باجوہ آج امریکہ کے کامیاب بزنسمینوں میں شمار ہوتے ہیں اور کاروبار کا دائرہ کینیڈا سے دبئی تک پھیل چکا ہے۔ اسی سلسلے میں عبدالمالک باجوہ دبئی منتقل ہو چکے ہیں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ “میجر آریہ” اور ان کے پاکستانی “ہمنوا” عاصم سلیم باجوہ کے بھائیوں کی ترقی کے جس “راز” سے پردہ اٹھا کر انکشافات کر رہے ہیں اور اپنے تئیں شرلاک ہومز بن رہے ہیں، وہ تمام تفصیل انہوں نے انٹرنیٹ سے ہی اٹھائی ہے۔ مزید دلچسپ بات یہ کہ تمام تفصیلات سالہا سال سے ندیم باجوہ اور ان کے دوسرے کاروباری شریک بھائی و کزنز خود اپ ڈیٹ کرتے ہیں جس میں پہلے دن سے آج تک کاروبار کی ترقی کا سفر دنیا کی نظروں کے سامنے ہے مگر سی پیک سے خار کھانے والوں کو آج نظر آیا۔ خود بطور معاون خصوصی عاصم سلیم باجوہ نے اپنے اثاثے بھی کسی سے نہ چھپائے جو ان کے خاندانی بیک گرائونڈ اور سروس ریکارڈ سے مکمل مطابقت رکھتے ہیں۔

یہاں یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ سارے بھائیوں کا رہن سہن ایک دوسرے سے مختلف اور اپنی اپنی مالی پوزیشن کا عکاس ہے، اگر ایک بھائی آبائی گھر میں رہا رہا تو دوسرا صادق آباد میں الگ گھر میں مقیم ہے، عاصم سلیم باجوہ دوران سروس جہاں ڈیوٹی لگتی وہیں سرکاری رہائش گاہ میں رہتے، ریٹائرمنٹ کے بعد اسلام آباد میں مستقل رہائش اختیار پہلے کی اور سی پیک کی ذمہ داری انہیں بعد میں ملی۔ تمام بھائی خوشی غمی میں اکٹھے ہوتے ورنہ اپنی اپنی زندگی میں اپنے اپنے انداز میں مصروف ترین ہیں، سب کو باہم ملتے کئی کئی ماہ گزر جاتے بالکل ویسے ہی جیسے ہر خاندان میں ہر بھائی بہن کا اپنا الگ گھرانہ وجود پا جاتا۔

اس سارے پراپیگنڈے سے متعلق ایک غیر رسمی نشست میں راقم نے عاصم سلیم باجوہ سے استفسار کیا تو چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لاتے ہوئے بولے “بھارتی اگر میرے متعلق ایسا کچھ کہہ رہے تو یہ تو اعزاز ہے کہ ایسا پاکستانی ہوں جس سے دشمن کو بہت تکلیف ہے”۔

ساتھ ہی کہا “مالی طور پر الحمداللہ واقعی میرے بھائی مجھ سے زیادہ کامیاب ہیں، مگر اللہ کا لاکھ شکر جو راستہ میں نے چنا اس میں بہت عزت اور کامیابی ملی”

چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے اپنی بات پرعزم لہجے میں مکمل کی۔ “انہیں کہنے دو، کوئی فرق نہیں پڑتا، میں پاکستان کے لیئے اپنی باقی زندگی میں بھی جو کچھ کر سکا کرتا رہوں گا، سی پیک پاکستان کا روشن مستقبل بن کر رہے گا۔ انشاءاللہ “۔

Facebook Comments

comments

Comments are closed.