The journey of attending the historic event of Capital One Arena -By Ruhi Samina

Ruhi Samina is a Toronto based writer of Urdu fiction & a naturally gifted singer. She’s a published author. Ruhi went to Washington to attend Pakistan’s Prime Minister Imran Khan’s address to the Pakistani community. Upon return, she beautifully penned her sentiments:

انیس جولائی کی شام کو جب میں نے واشنگٹن ڈی سی جانے کے لئے کینیڈین بارڈر کراس کیا  تو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہایسے لمحات کا حصہ بننے جا رہی ہوںجو ہمیشہ کے لئےمیری یاد اور تاریخ کا حصہ بن جائیں گے۔ کسی خاص قومی دن، واقعے یا کھیل میں جیت کے موقع پر جوش و خروش، ولولہ،نعرے اور جزبہء حب الوطنی تو ساری زندگی دیکھا ،لیکن جو ولولہ، جوش و جزبہ اور محبت میں نے پچھلے تین دنعمران خان کے لئے لوگوں کے چہروں اور آنکھوں میں

دیکھی، ایسا اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔عمران خان کے استقبال کے لئے پاکستان ایمبیسی کےباہر جمع ہونے والا مجمع ہو، اسکی تقریر کو سننے اور اسکی ایک جھلکپانے کو بے تاب لوگوں کی بھیڑ ہو، یا اسکی وائٹ ہاؤس آمدپر سڑکوں کے کناروں اور پارکوں میں جگہ جگہ ڈھول کی تھاپ پہرقص کرتے اور نعرے لگاتے لوگوں کی ٹولیاں ہوں، یوںلگتا تھا جیسے انتہائی گرمی کی وارننگ کے باوجود تپتی دھوپ اورتپش میں گھنٹوں کھڑے ہوکر جلنے کا کسی کو احساس ہی نہ ہو۔کسی سیاسی لیڈرسے اتنی محبت اور اسکی اتنی پزیرائیپر غیر بھی دم بخود تھے۔ ہم سے جگہ جگہ پوچھتے تھے کہ کون آیا ہے؟

رک رک کر وڈیوز بناتے، تصویریں کھینچتے وہ بھی حیران تھے۔سارا میڈیا امڈ آیا تھا۔ ہم جیسے عام سے لوگوں سے خان کے\طفیل انٹرویوز ہورہے تھے۔ کیمرے میں لیا جا رہا تھا۔اکیس جولائی کو ایرینا کے باہر ایک ہجوم تھا جو بڑھتاجا رہا تھا۔ وھیل چئیر پر بیٹھی گرمی سے بے حال ہوتی بزرگ خواتین، گھنٹوں سے کھڑے بوڑھے، بچے اورجوان!! انہیں نہ قیمے والے نان لائے تھے نہ بریانی۔یہ وہ تھے جو نہ جانے کہاں کہاں سے اپنے خرچےپر لمبی لمبی ڈرائیو یا فلائٹ لے کر خود پہنچے تھے۔

کسی کے ماتھے پر شکن نہیں تھی۔ کسی کو گرمی اور تھکن کا گلہ نہیں تھا۔سب کو صرف خان کا انتظار تھا۔ایرینا کے اندر تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی، جو رپورٹس کےمطابق کبھی باسکٹ بال کے فائنلز میں بھی ایسے نہیں بھرا تھا۔لوگ قومی ترانے گاتے، ناچ اور جھوم رہے تھے۔عمران خان کے اسٹیج پر آنے کے بعد تو چراغوں میں جیسے روشنی نہ رہی۔لوگوں نے نعرے لگا لگا کر آسمان سر پہ اٹھا لیا تھا۔شاِئد میری طرح کسی کو احساس ہی نہیں تھا کہ ہمارے آس پاس کتنا شور ہے۔

عمران خان کی زندگی کی جدوجہد کی داستان کی دکھائی جانے والی وڈیو میں جب اسے کنٹینر سے گرتے اورپھر ہاسپٹل کے بستر پہ پڑے دکھایا گیا تو لوگوں کو اپنی طرح روتے بھی دیکھا۔اس کی ایک ایک بات پر تالیاں بجاتا ہزاروں کا مجمع ۔اسکی چھوٹی سی شرارتی بات پر قہقہے لگاتا ہجوم۔جب اس سفر کے اختتام پر ہم واپس کینیڈا میںداخل ہوئے تو ہمارے بتانے سے پہلے ہی بارڈر پر بیٹھے آفیسرکو علم تھا کہ ہم واشنگٹن کس سے ملنے گئے تھے !!

کسی نے مجھ سے کہا کہ لوگوں کو عمران خان سے پہلے محبت تھی، اب عشق ہے۔یہ تین دن اس بات کی سچائی کا ثبوت تھے۔ اس لا وارث، لٹی ہوئی، بار بار بے قصور بے عزت ہوئی قوم کو وارث مل گیا ہےجو ذاتی مفاد اور بھیک کی خاطر جھوٹ کو سچ نہیں کہتا۔جو سر جھکا کر بھکاریوں کی طرح اپنے آقاوں کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتا۔جو سر اٹھا کر دوسروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالکر ہمارا سچا اور صحیح مقدمہ لڑتا ہے۔ جو امین ہے۔جو مخلص ہے۔جو نہ جانے کیسے بار بار لوٹی گئی اس قوم کی کسی نیکی کے صلے میں اللہ کی رحمت کی طرح سر کا سائبان بن گیا ہے، لوگ اس سے عشق کریں تو کیوں نہ کریں

Check out more blogs here

Facebook Comments

comments

Comments are closed.