An article that couldn’t be published; – “Maryam Nawaz in politics”

Urdu version of the article – “Maryam Nawaz in politics”

Social Media Users Bash Mariam Nawaz for promoting an Israeli platform
Maryam Nawaz and her politics

وہ کالم جو چھپ نہ سکا
مریم نواز سیاست کے میدان میں۔
تحریر- ق-ت-گ

مریم نواز نے پریکٹیکل سیاست کا آغاز میاں نواز شریف کی عدالت سے سزا اور حکومت سے بر طرفی کے بعد ۲۰۱۷ میں شروع کیا۔
مسلم لیگ نون ، خاص طور پر مریم نواز نے ۲۰۱۳ سے پاکستان میں عوامی سیاست کا گلا گھونٹ کر نفرت اور تقسیم کی سیاست شروع کی۔ اور اس کار خیر کا آغاز انہوں نے گھر سے کیا۔ اپنے چچا اور ان کے بیٹے حمزہ کو قومی سیاست اور پارٹی امور سے بالکل الگ کر دیا۔ چوھدری نثار سے نفرت کی حد تک برتاؤ اور اسی طرح کے درجنوں وار کر کے مریم نے پارٹی سیاست میں آمد کا اعلان کیا۔ اگر عوام دانیال عزیز، طلال چوھدری، عابد شیر علی کی سپریم کورٹ کے باھر پریس کانفرنسیں بھولے نھی ، تو یہ سارا گروپ مریم نواز بذات خود کنٹرول کرتی تھیں ۔
معاشرے میں مبینہ تقسم کی مھم کا یہ آغاز تھا۔ جب عدالتوں اور تفتیش کرنے والے اداروں پر الزامات لگا کر ان کی دھجکیاں بکھیر دی گئیں۔ پچھلے چار سال سے مریم نواز نے ملک کو نفرت، تقسیم اور اندھے انتقام کی بھٹی میں جونک رکھا ھے۔
لگ بھگ یہ وھی وقت ھے جب بھارت میں مودی سرکار نےمسلمانون کو پچھاڑ کر ھند دتوا کے سپرد کر رکھا تھا۔ ۲۰۱۶ میں امریکہ میں ٹرمپ نے فرقہ وارانہ سیاست کو ھوا دی اور وہ بھی نفرت اور تقسیم کرنے والی افراد کی صف میں آ کھڑا ھو۔ میاں نواز شریف جوڑ توڑ کی سیاست ضرور کرتے تھے لیکن پارٹی کو تقسیم کرنے کی طرف کبھی نھی گئے۔ معاشرے میں تقسیم، سیاسی لحاظ سے الیکشن جیتنے کے لئےایک نیا طیقہ ھے – جس میں ایک خاص  علاقے میں اپنی ووٹ بینک کو مضوط کر کے سوشل میڈیا کی مدد تقویت پہنچائی جاتی ھے۔ یہ نسلی بنیاروں پر ووٹ لینے کا طریقہ ھے۔
۔ مریم نواز، مودی اور ٹرمپ تقریبا ھم خیال سیاست دان ھیں جو عوامی نھی بلکہ اپنے مفاد کی سیاست پر یقین رکھتے ھیں- مریم نواز کی سیاسی تربیت والد نواز شریف کے علاوہ جگنو محسن اور نجم سیٹھی نے بھی کی ھے۔ مریم کا اٹھنا، بیٹھنا، بات چیت ، ھر چیز میں ایک تصنع نظر آتا ھے۔ وہ بے نظیر کی طرح نظر آنا چاھتی ھیں۔وہ سیاست دان کا روپ اپنائے دراصل علم سے نا بلد ایک گھریلو خاتون ھے ، جس کے نزدیک ھر مسئلے کا حل فساد ، تقسیم اور نفرت ھے ۔ کتابوں سے کوئی رغبت نھی-خوش لباس اور چڑ چڑے مزاج کی شخیصت ھیں۔ ان کے غصیلے پن کا عملی مظاہرہ حال ھی میں زرداری صاحب سے فون پر بات چیت کرتے ھوئے دیکھنے میں بھی آیا۔ منہ میں سونے کا چمچہ منہ میں لےکر پیدا ھوئیں اور طاقت کے حصول کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ھیں۔ چاپلوسی کو بھت پسند کرتی ھیں ۔ مریم اورنگزیب اور پرویز رشید انتہائی قریبی ساتھی سمجھے جاتے ھیں۔ تمام سینئر پارٹی ارکان بہانے بہانے میاں صاحب کو مریم کے بے ادب روے کی باری باری شکایت کر چکے ہیں لیکن نتیجہ کوئی نہ نکلا۔
یہ پوسٹ ٹرتھ کا زمانہ ھے، جس میں آپ حقیقت کو پس پشت ڈال کر عوام کے جزبات کو نشانہ بناتے ھیں۔ پاکستان میں ایک ٹی وی اینکر نے اس بات کی وضاحت اسطرح کی کہ مریم نواز سے جب ان کے خاندان کی کرپشن کے بارے میں سوال کیا جاتا ھے تو وہ زیرک سیا ستدانوں کی طرح دوسرے سیاستدانوں پر الزامات کے انبار لگا سوال گول جاتی ھیں یا سوال کرنے والی صحافی سے الجھ پڑتی ھیں۔ وہ ایسا اس لئے کرتی ھیں کہ ان پر لگے الزامات سے عوام کی توجہ ھٹ جائے۔ اور اپنی اس چال میں وھ کافی حد تک کامیاب نظر آتی ھیں کہ لوگ پانامہ لیکس کو بھولتے جا رھے ھیں۔ مریم کی سیاست کا نیا رخ ۲۰۱۶ میں ڈان لیکس سے سامنے آیا- ان کی سیاست کا طرہ امتیاز ھے کہ اپنی ھر سیاسی غلطی کو دوسروں کے کھاتے میں ڈالتے چلو۔ وہ سیاسی مقاصد کے لئے قومی مفاد کو باکل خاطر میں نھی لاتی۔ ڈان لیکس، ایف اے ٹی ایف، میں ان کا کردار اس کی عمدہ مثال ھیں
مریم نواز شریف پچھلے چار سال سے چاروں طرف بے بنیاد الزامات لگا کر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کر رھی ھیں ۔ مریم کو یقینا علم ھےکہ عوام کی ھمدردیاں سمیٹ کر ھی وہ احتساب کے پھندے سے بچ سکتی ھیں-
مریم نواز پاکستان کے خلاف ، بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ میں بہت آگے نکل گئی ھیں۔ ہر وہ شخص جو افغانستان کی این ڈی ایس یا بھارتی راء کا آلہ کار ھے وھ مریم نواز کے کیمپ کا حصہ ھے- ۲۰۱۳ سے بھارتی میڈیا مریم نواز کو rising star کھ کر ایک لافانی کردار بنانے کی کوشش کر رھا ھے- وہ بھارت میڈیا کی ڈارلنگ سمجھی جاتی ھیں۔ یاد رھے بھارت پچھلے پندرہ سال سے یورپ اور امریکہ سے سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا کر رھا ھے۔آپ پی ٹی ایم، بی ایل اے، افغانستان اور بھارت کی لیڈر جو پاکستان کے خلاف لکھتے یا بولتے ہیں، ان کو دیکھ لیں ، وہ مریم نواز کو ٹویٹر پر فالو کرتے ہیں اور ان کی ٹویٹ کو ریٹویٹ کرتے ھیں۔مریم ، عمران خان کو ناھل کھتی ہیں۔ کوئی بھی باھوش شخص اگر عمران خاں کو راجہ پرویز اشرف، نواز شریف، یوسف رضا گیلانی اور شاھد خاقان سے موازنہ کر کے دیکھ لے تو جواب خود بخود مل جائیگا – نواز شریف کو کبھی بھی جمہوریت پسند اور قابل لیڈر نھی سمجھا گیا-وہ تقسیم اور نفرت کی سیاست کے حامی رھے ھیں۔ عمران خاں ایک دلیر سیاستدان ھے وہ کسی قسم کے دباؤ میں نھی آتا، خود فیصلے کرتا ھے اور دیانتدار ھے۔
مریم نواز، وراثتی سیاست کی پیداوار ھیں۔ اور اسی توجیع کووھ اپنے حق کے طور پر عوام پر مسلط کرنا چاھتی ھیں ۔ اپنے ھی ملک کی فوج کے خلاف ایک نسل کو پروان چڑھا رھی ھیں۔ ان کی ھر تقریر اپنی ھی فوج کے خلاف ھے- یہ ایک انتہائی خطرناک رخ ھے مریم کی سیاست کا۔ مریم نواز نے سیاسی اقابرین اور اداروں کےخلاف پراپیگنڈا کے لئے ایک سپیشل میڈیا سیل بنایا ھوا ھے ۔ مصدق ملک، پرویز رشید، مریم اورنگ زیب ، احسن اقبال اس سیل کے متحرک ممبر ھیں۔ یہ سیل غیر ملکی ایجنسیز کی طرز پر کام کرتا ھے اور اس نے سینئر اور جونئیر صحافیوں پر مشتمل ایک نیٹ ورک بنا رکھا ھے جو اپنے پروگراموں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ایک منصوبہ بندی کے تحت کام کرتا ھے ۔ اس سیل کی سر پرستی  مریم خود کرتی ھیں۔ مریم کے سیل کی سپورٹ براہ راست بھارت میں دو لاکھ سے زائد وٹس ایپ گروپ اور یورپ میں بیٹھا ایک پاکستانی صحافیوں پر مشتمل گروپ کرتا ھے۔ اندازہ مریم کے سوشل میڈیا سیل پر ماہانہ دس سے پندرہ کروڑ روپیہ خرچ آتا ھے جسے نون لیگ کے بلیک فنڈ سے ادا کیا جاتا ھے۔ شہباز شریف اور چند دوسرے سمجھدار لوگوں نے اس کی ھمیشہ مخالفت کی ھے لیکن مریم کی ضد کے سامنے میاں صاحب سمیت سب سینئر مسلم لیگی بے بس نظر آتے ہیں۔

Check this too: Social Media Users Bash Maryam Nawaz For Promoting An Israeli Platform

Facebook Comments

comments

Comments are closed.