پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی۔تحریر:محمدزمان

TrendsPak Blog
TrendsPak Blog

کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی مرتب کرتے وقت ہمیشہ ان باتوں کاخیال رکھاجاتاہے کہ دوسرے ملکوں سے تعلقات استوار کرنا، بگڑے تعلقات سنوارنا اور باہمی تجارت کو فروغ دینا، خارجہ پالیسی بہتر اور دور رس ہو تو اس کے بہترین نتائج بھی برآمد ہوتے ہیں، ناقص خارجہ پالیسی سے ملک دنیا بھر سے کٹ جاتا ہے۔ خارجہ پالیسی میں نہ تو کوئی مستقل دوست اورنہ ہی مستقل دشمن ہوتاہے یہ سب وقت اور حالات کے تابع ہوتاہے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے جس کے باعث بھی اسے اقوام عالم اور مسلمان ممالک میں اونچا مقام حاصل ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے انتخابات میں کامیابی کے بعد قوم سے خطاب میںحکومت کی خارجہ پالیسی کے اہم نکات واضح کئے تھے جن میں افغانستان میں امن کی خواہش اور اس میں معاونت، بھارت کے ساتھ پرامن تعلقات اور اسے کشمیر سمیت دیگر معاملات پر مذاکرات اور بہتر تعلقات کی پیشکش، امریکہ کو مزید ڈو مور سے گریز کا مشورہ اور آئندہ کسی کی بھی جنگ کا حصہ نہ بننے کا عزم اور تمام مسلمان ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کے عزائم کا اظہار کیا تھا۔سب سے اہم بات تو یہی ہے کہ اب تک عمران خان خارجہ پالیسی سے متعلق اپنے پالیسی بیان پہ نہ صرف قائم ہیں بلکہ بڑی تیزی سے واضح طورپراس کا عملی مظاہرہ بھی کیاہے۔عمران خان نے اپنی تقریب حلف برداری میں نووجوت سنگھ سدھو کو مدعو کیا، وہ بھنگڑے ڈالتے آئے اور جنرل باجوہ سے بغلگیر ہوئے۔یہ ایسا کاری وار تھا کہ متعصب بھارتی میڈیا اور مودی سرکار اپنی بوٹیاں نوچتی رہی۔ رہی سہی کسر کرتار پور بارڈر کھول کر پوری کردی گئی اور سکھ یاتریوں نے ہاتھ پھیلا پھیلا کر عمران خان اور پاکستان کے حق میں دعائیں کیں، سرحد پار ایسی بے چینی پھیلی کہ بھارتی پنجاب کی ریاستی کابینہ کے رکن سکھجندر سنگھ نے قراداد پیش کی کہ پاکستان کے ساتھ کرتارپور کے بدلے کسی اور علاقے کا معاہدہ کرلیا جائے۔اس طرح پاکستان نے دنیا بھر کو مذہبی رواداری اور امن کا پیغام دیا جس کا جواب بھارت نے اس طرح دیا کہ اس وقت بھارتی وزیر خارجہ نہ صرف کرتارپور افتتاحی تقریب میں شریک نہیں ہوئیں بلکہ اگلے ہی روز مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار نے ظلم اور جبر کا نیا سلسلہ شروع کردیا جو کہ ابھی تک جاری ہے اور جس سے بھارت عالمی سطح پہ مسلسل بدنامیاں سمیٹ رہا ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی گذشتہ حکومت جو بھارت کے ساتھ نرم رویہ رکھنے کے سلسلے میں بدنام تھی،کشمیر ایشو کو مکمل نظر انداز کئے بیٹھی تھی۔ عمران خان کی حکومت نے نہ صرف کشمیر ایشو کو میڈیا پہ نمایاں کوریج دی بلکہ بارہا یہ واضح اعلان کیا کہ مسئلہ کشمیر پاک بھارت تعلقات میں بنیادی تنازعہ ہے جسے حل کئے بغیر بات نہیں بنے گی۔بھارت نے عمران خان کی باتوں کو نظر انداز کیا ، لیکن دوسرے محاذوں پر ایک نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔عمران خان نے واشنگٹن کا کامیاب دورہ کیا۔ خلیج کے عرب ممالک نے معاشی مدد کے لیے ان کی درخواست کا مثبت جواب دیا۔ چین کے ساتھ تعلقات آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے خارجہ پالیسی کے دو بدترین چیلنجوں پلوامہ اور کشمیر کی صورتحال کو سنبھالنے میں غیر معمولی قیادت دکھائی۔موجودہ حکومت نے انڈیااور کلبھوشن یادیو کی پاکستان میں دہشت گردی کے ثبوت اقوام متحدہ میں ڈوزئیرکی صورت میں پیش کئے اس سے پہلے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے کلبھوشن یادیوکے بارے میں ایک بھی لفظ نہیں بولاتھابلکہ ہندوستانیوں سے غیراعلانیہ ملاقاتیں کیں،کہنے والے تویہاں تک کہتے ہیں بھارت کوکلبھوشن کاکیس انٹرنیشنل کورٹ میں لے جانے کامشورہ بھی نوازشریف نے دیاتھا،موجودہ حکومت نے بھرپورطریقے سے کلبھوشن کاکیس انٹرنیشنل کورٹ میں لڑا۔عمران خان نے بیان بازی سے گریز کیا ہے اور بڑی حد تک سفارت کاری پر توجہ دی ہے،پاکستان نے مسئلہ فلسطین پرجنرل اسمبلی میں کامیاب سفارت کاری کامظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ کی مخالفت کے باوجود اسرائیل کے خلاف قراردادپاس کرائی،فلسطین کے مسئلہ پرOICکی بجائے پاکستان مسلم امہ کے لیڈرکے طورپرسامنے آیا جس پر فلسطینیوں نے پاکستان کاشکریہ اداکیا، کئی عرب ریاستوں نے اسرائیل کوتسلیم کرلیاتوامریکہ نے پاکستان پر بھی اسرائیل کوتسلیم کرنے کیلئے دبائوڈالاجس پرعمران خان نے واضح اوردوٹوک الفاظ میں اسرائیل کوتسلیم نہ کرنے کااعلان کیا۔وزیراعظم پاکستان عمران خان نے مجموعی طور پر پاکستان کے بین الاقوامی مقام کو بحال کیا ہے۔ عمران خان کی خارجہ پالیسی کا اہم ترین نکتہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کی تشکیل نو ہے۔عمران خان کا اصولی موقف افغانستان اور طالبان کے حوالے سے ہمیشہ واضح رہا ہے جس پر وہ وزیراعظم بننے کے بعد زیادہ شدت سے کاربند ہوگئے ہیں اور وہ یہ کہ یہ ہماری جنگ نہیں تھی ۔حالات اور امریکہ دونوں نے ان کا یہ موقف تسلیم کرلیا۔ امریکہ خود اس بے مصرف جنگ سے اکتا گیا ۔طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان کا اہم کرداراداکیاجسے امریکہ نے مجبوراََاور مصلحتاََہی تسلیم کیا اور ساری دنیا میں اسے سراہا گیا۔افغانستان میں پاکستان بھارت کوسائڈ لائن کرنے میں کامیاب ہواجس سے بھارت کے افغانستان میں اربوں روپے ڈوب گئے اور بھارت سی ون30طیاروں میں اپنے سٹاف کولوڈکرکے افغانستان سے بھاگا۔اس وقت چین کے علاوہ تاریخ میں پہلی بار روس کیساتھ ہمارے مثالی تعلقات قائم ہونے جارہے ہیں،پاکستان کے سمندرمیں پاک نیوی کیساتھ 40سے زائد ممالک کی نیوی فورسزکاامن مشقوں میں حصہ لیناجس میں پہلی بارروس کی نیوی نے اپنے بحری جہازوں سمیت شرکت کی،اس سب کے علاوہ ترک کمانڈوزکاٹریننگ کیلئے پاکستان آنااوراسکے بعدترکی میں فضائی مشقیں جن میں آذربائیجان،قطر،ترکی اورپاکستان نے مل کرحصہ لیا،یہ پاکستان کی سفارتی کامیابی نہیں تو اور کیا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ایک نئی نہج پر ہیں۔ آج سعودی سرمایہ کار پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کررہے ہیں اور سعودی عرب پاکستان کا سب سے بڑا غیر ملکی سرمایہ کار بن گیا ہے۔عمران خان کو بھیک مانگنے کا طعنہ دینے والوں کو ایک بار اپنے گریبان میں جھانک لینا چاہئے،شاید شرم انہیں آجائے۔اب وزیراعظم عمران خان محمدبن سلمان کی خصوصی دعوت پر سعودی عرب بھی جانے والے ہیں،چندنام نہادجغادری جویہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے تھے کہ عمران خان کی غلط خارجہ پالیسی کی وجہ ہم سے ہمارابرادراسلامی ملک سعودی عرب بھی دورہوگیاہے یہ ان کے منہ پرطمانچہ نہیں تواورکیاہے۔ خطے میں سعودی عرب کے روایتی حریف ایران نے چاہ بہار کا کنٹرول پاکستان کے حریف بھارت کے حوالے کردیا لیکن اس کے باوجود ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات متوازن حد تک نارمل ہیں او ر میر جاویہ اور سیستان بلوچستان سرحد پہ ایران پاکستان فری اکنامک زون جلد ہی کام شروع کردے گا اور پانچ بلین ڈالر کی دو طرفہ اضافی تجارت ممکن ہوجائے گی۔قطر سے جس کا عرب ممالک نے بائیکاٹ کیا ہوا ہے، عمران خان نے پاکستانیوں کے لیئے مفت ویزے اور نوکریاں حاصل کرلی ہیں ۔ترکی اور امارات کے ساتھ تعلقات کی ایک نئی مثال قائم ہوئی ہے ۔دیکھا جائے تو مقامی تنازعات سے بچتے ہوئے موجودہ حکومت کی اچھی سفارتکاری کی وجہ سے معاشی استحکام اورکامیابیاں نصیب ہورہی ہیں۔ سب سے
اہم پہلو یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے امریکی ٹیلی ویژن کودئے گئے انٹرویوز میں کہے گئے الفاظ Absoleutly notاورAbsoleutly nonsenseسے پاکستان کی شاندار خارجہ پالیسی واضح ہوچکی ہے، جس سے پاکستان اب مغرب کے تسلط سے آزاد ہوکر اپنی خارجہ پالیسی کے ایک بنیادی نکتے یعنی مسلم ممالک سے برادرانہ تعلقات قائم کرچکا ہے اور وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کے بیان جس میں انہوں نے کہاتھاکہ” اب پاکستان کی خارجہ پالیسی پاکستان میں ہی بنے گی” کا عملی نمونہ ہے۔

Twitter Id: @Zaman_740

Facebook Comments

comments

Comments are closed.