پہاڑوں کا بیٹا تحریر: محمد عامر

TrendsPak Blog
TrendsPak Blog

پہاڑوں کو دیکھنے اور ان پر چڑھنے میں شاید سبھی دلچسپی رکھتے ہوں گے لیکن پہاڑوں کی خطرناک چوٹیوں کو بے خوف ہوکر سر کرنے کا جذبہ لاکھوں انسانوں میں سے کوئی ایک ہی بہادر اپنے سینے میں لے کر پیدا ہوتا ہے, ایسا ہی ایک بہادر سکردو گلگت بلتستان کی گلیوں میں پیدا ہوا جسے محمد علی سدپارہ کے نام سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
پہاڑوں کی خطرناک چوٹیوں کو سر کرنے کا شوق رکھنے والا یہ کوہ پیما علی سدپارہ نا جانےاب تک کتنی چوٹیاں سر کر چکا تھا, اور یہی شوق انہیں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی K2 کے قریب کھینچ لایا اور اپنے بیٹے اور ساتھیوں سمیت اس بلند ترین چوٹی کو سر کرنے کی ٹھانی۔
شدید ٹھرٹھراتی ہوئی سردی میں جہاں ایک سانس لینا بھی محال ہو وہاں بلند ترین چوٹی کو پار کرنا کسی اعزاز سے کم نہ تھا, دیکھتے ہی دیکھتے برف کی چٹانوں کو چیرتا ہوا یہ بہادر, دلیر کوہ پیما ہزاروں میٹرز کی بلندیوں کو چھونے لگا, آکسیجن کی کمی کے باعث اپنے فرزند ساجد سدپارہ کو الوداع کہا, باپ بیٹا دونوں اس بات سے بے خبر تھے کہ یہ الوداع آخری الوداع ہو گا۔
(جاری ہے)

4 فروری 2021 کو اچانک یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح ملک کے کونے کونے تک پھیل گئی کہ علی سدپارہ اپنے ساتھیوں سمیت لاپتہ ہو گئے ہیں, لیکن کہیں نہ کہیں قوم کے دلوں میں یہ امید بھی زندہ باقی تھی کہ کسی بھی وقت علی سدپارہ قومی پرچم ہاتھوں میں تھماۓ بلند ترین چوٹی پر لہراتا نظر آئے گا۔
جب امیدیں دم توڑتی نظر آئیں تو پاک فوج کے جوانوں نے قوم کے ہیرو اوران کے ساتھیوں کو ڈھونڈنے کے لیے امدادی کاروائیاں شروع کیں, ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے بعد بھی علی سدپارہ کا کچھ پتا نہ چل سکا, ہر کوشش ناکام ہونے کے بعد آخر کار 18 فروری 2021 کو اس قومی ہیرو کی موت کی تصدیق کر دی گئی اور قوم راہ تکتی رہ گئی۔

یہ لمحہ ان کے گھر والوں کے ساتھ ساتھ ہمارے لیے بھی بہت زیادہ غمگین تھا, مگر ساتھ ہی ساتھ علی سدپارہ کے اہل خانہ کے لئے باعثِ فخر کی بات تھی کہ پہلا کوہ پیما شدید سردی میں اپنے میشن کو پانے میں کامیاب ہو گیا۔
زندگی معمول کے مطابق گزرنا شروع ہوئی ہی تھی کہ 5 ماہ کے بعد 26 جولائی 2021 کو تہلکہ خیز خبر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی کہ علی سدپارہ کا جسد خاکی K2 پر باٹل نیک سے 300 میٹر نیچے ان کے فرزند ساجد سدپارہ نے دریافت کیا۔

یہ قوم علی سدپارہ کے اس کارنامے کو کبھی نہیں بھول پائے گی اور ان کا نام ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا۔ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ ان کے اعزاز میں تقریب منعقد کی جائے جاے اور انہیں بہادری کے اعزاز یا تمغہ سے نوازا جاے۔
پہاڑوں سے محبت رکھنے والا, پہاڑوں کا بیٹا, اپنی زندگی کے آخری لمحات بھی پہاڑوں کی نظر کر گیا۔

Twitter: @aamir_raza110

Facebook Comments

comments

Comments are closed.